جاگتے رہو،جگاتے رہو۔

اس وقت ملت کو تلخ تجربات  ہورہیے ہیں ۔دوسروں کی تیاریاں، حسداور تعصب، نفرت اور دشمنی مختلف  لبادے  میں سامنے آرہی ہیے ۔ مآب لینچنگ، فرقہ وارانہ  فسادات، پولس کا کردار، تین طلاق پر حکومت کی مسلم خواتین  سے ہمدردی  کا قانون، سپریم  کورٹ  کا بابری مسجد پر فیصلہ ۔این آر سی اے، سی اے اے، این پی آر۔۔۔۔مسلمانوں کی  سادگی اور غیروں کی عیاری دیکھی، ان کی  تنظیم  وقیادت، سیاسی قوت  کا گھمنڈ، بیداری  سے کچھ احساس ابھرے ۔ اپنے انتشار کا نقصان  دیکھا۔ ہم نے برسوں  اد بات پر بحث کی کہ اسلام میں  سیاست نہیں  ۔ جبکہ 
جداہو دین سیاست سے تو رہ جا تی ہیے چنگیزی
سوتے کو جگانا آسان ہیے ۔جاگتے کو جگانا مشکل۔ کسی نے  کیا خوب کہا ہیے
ہر شخص  اپنے حصہ  کا  جلاتا رہیے چراغ
تب کہیں جا کے زمانے میں اجالا ہو گا
کرنے کے کچھ اہم کام  
    بچوں کی دینی
 تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دیں۔فضول  مشاغل  سے دست برداری۔ 
۔2۔ مسلمانوں کے دین وایمان کی حفاظت کی کوشش ۔
3۔ ملکی تعلیمی پالیسی پر نظر رکھیں، اور جب بھی وہ آئے تو اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس کے لئے تیاری کریں۔
ارتداد، اور انٹر کاسٹ میریج پر قدغن لگانے کے لیے بہترنیٹ ورکنگ کرٰ یں ۔ لڑکیوں کو اخلاق باختہ  ماحول  سے بچائیں ۔
4۔ مقامی سیاسی پارٹیوں سے تعلقات استوار ہوں۔ محلے محلے غیر مسلموں  کو ساتھ لے کر سدبھاونا منچ،فورم خدمت خلق کے سینٹر، غریب  بستیوں  میں اور دلت لوگوں میں ایک ساتھ بھوجن. کھانے کا اہتمام ۔
5۔ سماجی سطح پر غیر مسلموں سے تعلقات قائم رکھنا اور مضبوط کرنا۔ اسلام  کی دعوت، رسول اکرم کی سیرت اور بزرگوں  کے واقعات  اور سیرت عام کرنا۔اہل وطن کے ساتھ انسانی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر خوشی،غم ،تکلیف، بیماری میں مدد۔اپنے کردار سے اسلام کی دلوں کو چھو لینے اور متاثر کرنےوالی تعلیمات پر خود بھی چلیں اور نمونہ پیش کریں ۔اچھائیوں کے پھیلانے اور برائی سے روکنے کے لیے اہل وطن کو ساتھ کے کر عملی تعاون حاصل کریں
دوڑو زمانہ  چال قیامت کی چل گیا

6)مسلم بچوں  میں  جنون کی حد تک  دینی وعصری تعلیم کے حصول اور  انتظامیہ، عدلیہ I s, ips, upsc, mpscاور کلیدی عہدوں کے لیے تیاری، شبینہ  مدارس، معیاری  مکاتب کا محلے محلے قیام، مساجد کو ہر طرح سے مرکزی کردار ادا کرنے کا سینٹر  بنائیں، تعلیم وتربیت اور اجتماعی امور کا مرکز بنا دیں مدارس الگ بنانے کے بجائے مساجد کی عمارت کو  پورا وقت استعمال میں لائیں۔شرعی پنچایت، اصلاحی کمیٹیاں، دارلقضاء، مصالحت اور کونسلنگ سینٹر۔تعلیم گاہ، اسلامی لائبریری، فکر اسلامی کا فروغ، جمعہ  کے خطبات کے ذریعہ  ملت کی ذہن سازی اور سماجی، ملی، دینی وسیاسی شعور کی  آبیاری، انٹر کاسٹ میریج سے بچانے  کی حکمت عملی کے تحت مساجد میں  رشتوں  و پیام کا شعبہ،  بیت المال اور اجتماعی  نظم زکواة  کا سینٹر، توسیعی  خطبات، اسلامی  تاریخ  پر قسط وار اہم عنوانات پر ماہرین  کے لیکچرز، بلا سودی قرض،  بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے بچانے  کی تلقین وعملی راہ نمائی، مسجد کے اطراف  اور محلے کا معیاری  سروے رپورٹ۔
اس جہاں میں تو اپناسایہ بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہیے
7)باہمی  کشمکش اور مسلکی تعصب  سے بلند ہو کر درپیش چیلنجز کے مقابلے اور تحفظ امت کی  لمبی مدت کی منصوبہ بندی ۔
8)مثالی اسلامی  محلے، عائلی تعلیمات  کی بنیا د پر شادی سے قبل تعلیم وتربیت  کے پروگرام ۔ خاندان  کو بکھرنے  سے بچانے کیلئے اصلاحی تدابیر، ڈائیلاگ  سینٹر ز۔
(9)کاہلی ،بے سمتی، انتشار، تفرقہ، بے راہ روی، مایوسی، بے چارگی  و بے بسی سے نکلنے  کے لیے عزم و حوصلہ، قربانی، اجتماعی  مفاد کے لیے ایثار کے جذبات  کی آ بیاری اور رواداری ۔
(10) بچوں، نوجوان اور لڑکیوں  کی تربیت  گاہوں  پر خاص دھیان، اس کی اچھی اور کامیاب  کوشش دینیات  کے مکاتب ہیں۔ انھیں مزید موثر  بنانا۔
(11)بڑے  دینی مدارس میں  اسلامی اکیڈمی، ریسرچ سینٹر، تحقیقی ادارے، ملت کو درپیش  مسائل کے حل کی حکمت عملی تیار کرنے  کے لیے ملکی سطح  پر مسلمانوں  کے اعداد وشمار ۔سروے۔انصاف  حاصل  کرنے  اور میڈیا  کی قوت بنے کے لیے کورسیز، سوشل میڈیا کو  استعمال  کرنے  کے لیے افراد کی تیاری۔ علماء کو جدید ذرائع وسائل  مواصلات  سے واقفیت ۔
(12)خواتین  کی تعلیم، ان کی اسلامی  انجمنیں،تعلیم بالغان، ان کے حلقہ اثر میں  کام کی منصوبہ  بندی اور مواقع فراہم کر نا۔۔
(12)ہر شعبے  مثلاً، اساتذہ، ڈاکٹر س، تاجر، کسان، وکلاء ۔ میڈیا پرسن، جدید ٹیکنالوجی سے جڑے افراد، ہنر مند، طلبہ، خواتین اور کارخانہ داروں  کے لیے اپنے شعبے  میں اسلا م کی نمایندگی اور دعوت کے پھیلانے کا کام۔
(13)سارے بھارتی  مسلمانوں  میں  مسا لک، جماعتوں، کے ساتھ  رواداری اور برداشت کرنے کا جذبہ، اکرام مسلم نہ کہ اکرام جماعت ۔مسلکی بحت، ضال ومضل کفر کے فتوی کی بجائے۔دلسوزی، شفقت کا رویہ۔دوسرے کی بات  سنے کا مادہ، برداشت، سارے اچھے کاموں  کی حوصلہ افزائی ۔
(14) شورائیت، احتساب و بے لاگ جائزہ، مقصد سے گہری وابستگی.... 
زندگی  کو جاوداں رکھتی ہے مقصد کی  لگن 
ورنہ ہرای آدمی گرتی ہوئی  دیوار ہیے
فکری  پختگی، بایم بنیان مرصوص، آپس میں  رحیم۔ وقت کی پابندی  اور سخت ڈسیپلین، صلاحیت  کے مطابق  کاموں کی تقسیم، تنقید  کے اسلامی  آداب اور اجتماعی  مفاد کے لیے جذبہ  قربانی۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں 
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں  میں

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں